13 اکتوبر 2026 - 09:36
ایران کا امریکہ کو سخت انتباہ: آگ سے مت کھیلو

ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن‌الرضا نے امریکی حکام کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کی شناخت و خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی سے اجازت نہیں لیں گی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، جنرل ابن‌الرضا نے وزارت دفاع کے صنعتی اداروں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ بار بار دھمکیاں دے کر ایران کے عزم کو کمزور یا اسلامی جمہوریہ کو خوف زدہ کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی دھمکیوں کو دہراتے رہنا طاقت کی علامت نہیں، بلکہ ان کے بقول یہ مخالف فریق کے انٹیلی جنس اور تجزیاتی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر زمینی حقائق کا درست جائزہ لیا جائے تو ایسے دعوؤں اور دھمکیوں پر اصرار نہیں کیا جاسکتا جن کی غلطی بارہا سامنے آچکی ہو۔

ایرانی جنرل نے واضح کیا کہ ایران سے دھمکیوں کی زبان میں بات نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق، ایرانی قیادت امریکی دھمکیوں کو عملی فوجی خطرے کے بجائے زیادہ تر سیاسی بیانات سمجھتی ہے، جن کے پیچھے حقیقی عسکری صلاحیت موجود ہونے کا ثبوت نہیں دیا گیا۔

علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ابن‌الرضا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ حالات امریکہ اور اسرائیل کی غلط پالیسیوں اور اندازوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ ماضی میں ہمسایہ ممالک اور خطے کے عوام کے لیے خطرہ تھا اور نہ مستقبل میں ہوگا، بلکہ وہ حکمت اور دانش مندی کے ساتھ دوستوں اور مخالفین میں فرق کرتا آیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایک اور جنگ چھڑتی ہے تو ایران گزشتہ جنگوں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ طاقتور اور جدید صلاحیتوں کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ ان کے مطابق، دفاعی صنعت میں پیداوار، فیکٹریوں اور تکنیکی سرگرمیوں کا تسلسل محض میڈیا کا دعویٰ نہیں، بلکہ مخالفین میدان میں ایرانی مسلح افواج کی صلاحیتیں دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سامنے لائی جانے والی صلاحیتیں ایران کی حقیقی دفاعی طاقت کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

جنرل ابن‌الرضا نے کہا کہ ایران آج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، متحد اور بیدار ہے، جبکہ میدانِ عمل سے حاصل ہونے والے تجربات نے دفاعی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔

انہوں نے ملک کے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بھی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں مکمل رابطہ موجود ہے اور ملک یکجہتی کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری موجود ہے اور یہ تیاری ایران کی اپنی صلاحیتوں، آزاد حکمت عملی اور مقامی وسائل پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے داخلی قوت اور خود انحصاری پر بھروسا کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha